نو لاکھ فلسطینی شہری منگل کے روز شمالی غزہ اور غزہ شہر میں اسرائیلی ٹینکوں اور فوجیوں کے گھیرے میں رہے جو حملے کی تیاری کر رہے تھے۔امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیل نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جنوب کی طرف بھاگ جائیں اور سفر کے لیے چار گھنٹے کے وقفے کی پیشکش کی، لیکن جنوبی غزہ بھی حملے کی زد میں آ گیا۔ خان یونس اور رفح شہروں پر اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 23 افراد مارے گئے۔خان یونس میں ایک گھر کے ملبے سے ریسکیو کیے جانے والے احمد عائش نے کہا کہ ’ہم عام شہری ہیں۔ کیا یہ نام نہاد اسرائیل کی بہادری ہے، وہ عام شہریوں، بچوں اور بوڑھوں کو اپنی طاقت دکھا رہے ہیں۔‘
غزہ شہر کے ایک رہائشی آدم فائز زائرہ نے کہا کہ ’میری زندگی کا سب سے خطرناک سفر۔ ہم نے ٹینکوں کو نشانہ سادھے دیکھا۔ ہم نے انسانی جسم کے سڑے ہوئے حصے دیکھے۔ ہم نے موت کو دیکھا۔‘
اسرائیل نے کہا کہ اس کی فورسز غزہ شہر میں اندر تک پہنچ رہی ہیں۔
جنگ کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جنوب کی طرف جائیں۔ اس نے جنگ میں مختصر وقفوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لوگ کے لیے صلاح الدین روڈ محفوظ راستہ ہو گا، جو محصور غزہ کے مرکز سے گزرتا ہے۔
لیکن ہزاروں شہری شمال میں رہ گئے ہیں جو بہت سے ہسپتالوں یا اقوام متحدہ کی عمارتوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
جو لوگ شمال میں ٹھہرے ہوئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ جنوب میں بہت زیادہ ہجوم کے ساتھ ساتھ کم ہوتے پانی اور خوراک کی سپلائی، اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری رکھنے سے پریشان ہیں۔
پیر کے روز غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے محفوظ راستے کی اسرائیلی پیشکش کو ’موت کی گزرگاہیں‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ لاشیں کئی دنوں سے سڑک پر پڑی ہیں، اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقامی ایمبولینسوں کے ذریعے انہیں اٹھائیں۔